hadith book logo

Sunan Darimi: Hadith 2222

.

سنن الدارمي

2222
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنْ الزِّنَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا فَقَالَ اذْهَبْ فَأَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَأْتِنِي بِهَا فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ فَقَالَ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ زنا کرنے کے بعد حاملہ ہوگئی تھی اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول میں نے ایک قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے آپ مجھ پر حد قائم کریں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سرپرست کو بلایا اور فرمایا اسے لے جاؤ اور اس کا خیال رکھنا اور جب یہ بچے کو جنم دے تو پھر اس کو میرے پاس لے کر آنا اس نے ایسا ہی کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت اس عورت کے کپڑے اچھی طرح باندھ دیئے گئے اور آپ کے حکم کے تحت اسے سنگسار کردیا گیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نماز جنازہ ادا کی حضرت عمر نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول آپ اس کی نماز جنازہ ادا کررہے ہیں حالانکہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر اسے مدینہ میں رہنے والے ستر افراد کے درمیان تقسیم کیا جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو۔ کیا تمہیں اس سے زیادہ بہتر اور کوئی صورت نظر آتی ہے اس نے اپنی جان اللہ کے لیے قربان کردی۔