أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَأَمَّا مَنْ غَزَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنُبْهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الْإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ فَإِنَّهُ لَا يَرْجِعُ بِالْكَفَافِ
حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لڑائی دو طرح کی ہوتی ہے جو شخص اللہ کی رضا کے حصول کے لیے امام کی اطاعت کرتے ہوئے لڑائی میں شریک ہوتا ہے۔ اچھی چیز خرچ کرتا ہے اپنے ساتھیوں کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے اور فساد سے پرہیز کرتا ہے اس کا سونا اور بیدار ہونا ہر عمل اجر کا باعث ہے اور جو شخص فخر، ریاکاری اور دکھاوے کے لیے لڑائی میں شریک ہوتا ہے امام کی نافرمانی کرتا ہے زمین میں فساد پیدا کرتا ہے وہ کفاف کے ہمراہ واپس نہیں آئے گا۔