hadith book logo

Sunan Darimi: Hadith 2335

.

سنن الدارمي

2335
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِلَالٍ أَوْ خِصَالٍ فَأَيَّتُهُمْ مَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَخْبِرْهُمْ إِنْ هُمْ فَعَلُوا أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلَيْسَ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا أَنْ يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ فَسَلْهُمْ إِعْطَاءَ الْجِزْيَةِ فَإِنْ فَعَلُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ وَإِنْ حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَإِنْ أَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ وَلَكِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَبِيكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا بِذِمَّتِكُمْ وَذِمَّةِ آبَائِكُمْ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ وَإِنْ حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لَا ثُمَّ اقْضِ فِيهِمْ بِمَا شِئْتَ قَالَ عَلْقَمَةُ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُقَاتِلَ بْنَ حَيَّانَ فَقَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جب کسی شخص کو کسی مہم کا امیر مقرر کرتے تو اسے یہ ہدایت کرتے جب تمہارا اپنے کسی مشرک دشمن سے سامنا ہو تو انھیں تین میں سے کسی ایک بات کو قبول کرنے کی دعوت دو ۔ ان میں سے جو بھی بات وہ قبول کرلیں اس کو ان کی طرف سے تم قبول کرلینا اور ان سے لڑائی سے رک جانا۔ تم انھیں اسلام کی دعوت دو اگر وہ قبول کرلیں تو ان کی طرف سے اسے قبول کرلینا اور لڑائی سے رک جانا۔ اگر نہ مانیں تو پھر تم انھیں دعوت دو کہ وہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر مہاجرین کے علاقے کی طرف آجائیں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو تم انھیں بتا دینا کہ انھیں وہی کچھ ملے گا جو مہاجرین کو ملتا ہے اور ان کے ذمہ وہی ادائیگی لازم ہوگی جو مہاجرین کے ذمے لازم ہے۔ اگر وہ انکار کریں تو تم انھیں بتانا کہ وہ لوگ دیہاتی مسلمانوں کی مانند ہوں گے ان پر اللہ کے وہ تمام احکام جاری ہوں گے جو مسلمانوں پر ہوتے ہیں انھیں مال فئی اور مال غنیمت میں سے کچھ نہیں ملے گا البتہ اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں تو انھیں حصہ ملے گا اگر وہ اسلام میں داخل ہونے سے انکار کردیں تو تم انھیں جزیہ ادا کرنے کا کہو اگر وہ ایسا کریں تو ان کی طرف سے یہ قبول کرلو اور لڑائی بند کردو۔ اگر وہ انکار کریں تو اللہ سے مدد حاصل کرو اور ان سے جنگ شروع کردو۔ اگر تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرو اور وہ یہ چاہیں کہ تم انھیں اللہ کے ذمے اور اس کے نبی کے ذمے کرو تو تم انھیں اللہ کا ذمہ اور اس کے نبی کا ذمہ نہ دو بلکہ انھیں اپنا اور اپنے باپ کا ذمہ دو اور اپنے ساتھیوں کے ذمہ دو کیونکہ تم اپنے ذمے اور اپنے باپ دادا کے ذمہ کی خلاف ورزی کرو۔ یہ تمہارے حق میں اس سے کم نقصان والا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ذمے کی خلاف ورزی کرو۔ اگر تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ یہ چاہیں کہ تمہیں اللہ کے حکم پر لے آئیں تو تم ان کے ساتھ اللہ کے حکم پر معاہدہ نہ کرو بلکہ اپنے فیصلے پر معاہدہ کرو کیونکہ تم جانتے ہو کہ تم ان کے بارے میں اللہ کے حکم تک پہنچ جاؤ گے یا نہیں پھر تم ان کے بارے میں جو چاہو فیصلہ کرو۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔