حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ قُتِلَ نَفَرٌ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ حَتَّى ذَكَرُوا رَجُلًا فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ أَوْ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا قَالَ لِي يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قُمْ فَنَادِ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ فَقُمْتُ فَنَادَيْتُ فِي النَّاسِ
حضرت ابن عمر (رض) بن خطاب بیان کرتے ہیں غزوہ خیبر کے موقع پر کچھ لوگ مارے گئے دوسرے لوگوں نے کہا فلاں شخص شہید ہوگیا انھوں نے کئی لوگوں کو ذکر کیا اور کہا وہ شخص بھی شہید ہوگیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے اس کے جسم پر ایک عباء (راوی کو شک ہے یا شاید) ایک چادر تھی جو اس نے خیانت کے طور پر لی تھی (حضرت عمر فرماتے ہیں) پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا اے ابن خطاب اٹھو اور لوگوں میں یہ اعلان کردو کہ جنت میں صرف اہل ایمان داخل ہوں گے (حضرت عمر فرماتے ہیں) میں اٹھا اور میں نے لوگوں میں یہ اعلان کردیا۔