hadith book logo

Sunan Darimi: Hadith 2393

.

سنن الدارمي

2393
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ كَانَتْ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ فَأُسِرَ وَأُخِذَتْ الْعَضْبَاءُ فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي وَثَاقٍ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ عَلَى مَا تَأْخُذُونِي وَتَأْخُذُونَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ وَقَدْ أَسْلَمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ وَكَانَتْ ثَقِيفٌ قَدْ أَسَرُوا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ حَاجَتُكَ ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ فُدِيَ بِرَجُلَيْنِ فَحَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءَ لِرَحْلِهِ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ فَذَهَبُوا بِهِ فِيهَا الْعَضْبَاءُ وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَكَانُوا إِذَا نَزَلُوا قَالَ أَبُو مُحَمَّد ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً إِبِلُهُمْ فِي أَفْنِيَتِهِمْ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَامَتْ الْمَرْأَةُ وَقَدْ نُوِّمُوا فَجَعَلَتْ لَا تَضَعُ يَدَيْهَا عَلَى بَعِيرٍ إِلَّا رَغَا حَتَّى أَتَتْ الْعَضْبَاءَ فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ فَرَكِبَتْهَا ثُمَّ تَوَجَّهَتْ قِبَلَ الْمَدِينَةِ وَنَذَرَتْ لَئِنْ اللَّهُ نَجَّاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمَتْ عُرِفَتْ النَّاقَةُ فَقِيلَ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرَتْ الْمَرْأَةُ بِنَذْرِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَمَا جَزَيْتِهَا أَوْ بِئْسَمَا جَزَتْهَا إِنْ اللَّهُ نَجَّاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ
حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں بنوعقیل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی اونٹنی جس کا نام عضباء تھا اس کو اس کی اونٹنی سمیت گرفتار کرلیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس سے گزرے وہ بندھا ہوا تھا وہ بولا اے محمد آپ نے مجھے اور میری تیزرفتار اونٹنی کو کیوں پکڑا جبکہ میں اسلام قبول کرچکا ہوں ارشاد فرمایا اگر تم یہ اعتراف کرتے ہو تو تم آزاد ہو تمہیں ہر طرح کی بھلائی نصیب ہوگی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا ہم نے تمہیں تمہارے حلیف لوگوں کی زیادتی کی وجہ سے پکڑا ہے راوی کا بیان ہے ثقیف قبیلے کے لوگوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قید کرلیا تھا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گدھے پر تشریف لائے جس پر ایک کمبل پڑا ہوا تھا وہ شخص بولا اے محمد میں بھوکا ہوں مجھے کچھ کھلائیے میں پیاساہوں مجھے کچھ پلائیے ارشاد ہوا یہ تمہاری ضرورت یعنی کھانے کا سامان ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر ایک شخص کو دو حضرات کے عوض فدیئے کے طور پر ادا کیا گیا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اونٹنی کو اپنی سواری کے لیے رکھ لیا کیونکہ وہ انتہائی تیزرفتار تھی۔ پھر ایک مرتبہ مشرکین نے مدینہ منورہ کے جانوروں پر حملہ کیا اور انھیں پکڑ لیا جن میں وہ اونٹنی بھی شامل تھی انھوں نے ایک مسلمان خاتون کو بھی قید کرلیا۔ جب ان لوگوں نے پڑاؤ کیا (امام دارمی فرماتے ہیں اس کے بعد راوی نے ایک جملہ نقل کیا ہے) تو ان کے اونٹ کھلے میدان میں تھے جب رات کا وقت ہوا تو وہ خاتون اٹھی وہ لوگ اس وقت سوچکے تھے وہ خاتون جس اونٹ پر ہاتھ رکھتی وہ اونٹ آواز نکالتا۔ یہاں تک کہ جب وہ خاتون عضباء کے پاس آئی تو عضباء نے آواز نہ نکالی وہ خاتون اس پر سوار ہوئی اور مدینہ کی طرف چل پڑی اس نے نذرمانی کہ اگر اللہ نے اسے نجات دی تو وہ اس اونٹنی کو قربان کردے گی۔ راوی کہتے ہیں جب وہ عورت مدینہ پہنچی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹنی کو پہچان لیا اور کہا گیا کہ یہ تو اللہ کے رسول کی اونٹنی ہے پھر وہ لوگ اس خاتون کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے۔ اس خاتون نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی نذر کے بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا تم نے اس اونٹنی کو بہت برا بدلہ دیا ہے اللہ نے اسے اس لیے نجات دی کی تم اسے قربان کردو۔ ؟ اللہ کی نافرمانی والی کسی نذر کو پورا کرنا لازم نہیں ہے اور انسان جس چیز کا مالک نہ ہو اس کے بارے میں بھی کوئی نذر پوری کرنا لازم نہیں ہے۔