hadith book logo

Sunan Darimi: Hadith 2395

.

سنن الدارمي

2395
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ إِسْرَائِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لَا نُقِرُّ بِهَذَا لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لِعَلِيٍّ امْحُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أَمْحُوهُ أَبَدًا فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ فَكَتَبَ مَكَانَ رَسُولِ اللَّهِ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنْ لَا يَدْخُلَ مَكَّةَ بِسِلَاحٍ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ وَأَنْ لَا يُخْرِجَ مِنْ أَهْلِهَا أَحَدًا أَرَادَ أَنْ يَتْبَعَهُ وَلَا يَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا قُلْ لِصَاحِبِكَ فَلْيَخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ
حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں ذیقعدہ کے مہینے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرہ کا ارادہ کیا تو اہل مکہ نے انھیں مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا اور یہ شرط رکھی کہ اگر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف تین دن وہاں قیام کریں تو وہ انھیں مکہ میں داخل ہونے کی اجازت دیں گے۔ جب ان لوگوں نے یہ معاہدہ تحریر کیا تو اس میں یہ لکھا تھا کہ یہ وہ معاہدہ ہے جو اللہ کے رسول محمد کررہے ہیں مشرکین نے کہا ہم اس کا اقرار نہیں کریں گے کیونکہ اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو آنے سے کیسے روکتے آپ محمد بن عبداللہ ہیں اس لیے معاہدے میں یہ تحریر کیا جائے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو ارشاد فرمایا کہ محمد رسول اللہ مٹادو انھوں نے عرض کی نہیں اللہ کی قسم میں اسے کبھی بھی نہیں مٹاؤں گا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ تحریر پکڑی آپ باقاعدہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن آپ نے رسول اللہ کی جگہ یہ تحریر کیا یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبداللہ کررہے ہیں وہ ہتھیاروں کے ساتھ مکہ میں داخل نہیں ہوں گے البتہ تلواریں میان میں ڈالی ہوئی ہوں گی اور اہل مکہ میں سے جو شخص نکل کر ان کے پاس جائے گا اور ان کی پیروی کرنا چاہے گا اور ان کے ساتھ جانا چاہے گا تو اسے ساتھ نہیں لے کر جائیں گے اور جو اصحاب مکہ میں رہنا چاہیں گے وہ انھیں منع نہیں کریں گے جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تشریف لائے اور وہ مخصوص مدت گزرگئی تو وہ لوگ حضرت علی (رض) کے پاس آئے اور بولے آپ اپنے آقا سے کہیں کہ وہ یہاں سے تشریف لے جائیں کیونکہ طے شدہ مدت پوری ہوچکی ہے۔