أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِبَاغُهَا طَهُورُهَا وَسَأَلْتُهُ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا وَإِنَّا نَتَّخِذُ مِنْهَا هَذِهِ الْخُمُورَ فَنَبِيعُهَا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ أَوْ دَوْسٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةً مِنْ خَمْرٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا عَلِمْتَ يَا أَبَا فُلَانٍ أَنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا قَالَ لَا وَاللَّهِ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا فَالْتَفَتَ إِلَى غُلَامِهِ فَقَالَ اخْرُجْ بِهَا إِلَى الْحَزْوَرَةِ فَبِعْهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ مَا عَلِمْتَ يَا أَبَا فُلَانٍ أَنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا قَالَ فَأَمَرَ بِهَا فَأُفْرِغَتْ فِي الْبَطْحَاءِ
حضرت عبدالرحمن بن وعلہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے مردار کی کھال کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا دباغت کے ذریعے وہ پاک ہوجاتی ہے۔ ذمیوں کے ساتھ شراب کی خریدو فروخت کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ہمارے ہاں انگور ہوتے ہیں۔ اور ہم انھیں سے شراب بنایا کرتے تھے اور ذمیوں کو فروخت کردیتے تھے حضرت ابن عباس نے بتایا کہ ثقیف یا شاید دوس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے نبی اکرم کی خدمت میں حجۃ الوداع کے موقع پر شراب کا ایک مشکیزہ تحفے کے طور پر پیش کیا۔ نبی اکرم نے اس سے فرمایا اے ابوفلاں کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے اس نے عرض کی نہیں اللہ کی قسم مجھے اس بات کا علم نہیں ہے نبی اکرم نے فرمایا اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر بولا اسے لے جا کر بازار میں فروخت کردو۔ نبی اکرم نے اس سے فرمایا اے ابوفلاں کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ اللہ نے جس چیز کو حرام کیا ہوا ہے اسے فروخت کرنا بھی حرام کیا ہے راوی بیان کرتے ہیں پھر آپ کی ہدایت کے تحت اس شراب کو میدان میں بہا دیا گیا۔