أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ بِلَالٍ قَالَ كَانَ عِنْدِي مُدُّ تَمْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ أَطْيَبَ مِنْهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا يَا بِلَالُ قُلْتُ اشْتَرَيْتُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ قَالَ رُدَّهُ وَرُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا
حضرت بلال بیان کرتے ہیں میرے پاس نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کھجوروں کا ایک مد موجود تھا مجھے اس سے زیادہ اچھی کھجوریں ملی تو میں نے دو صاع کے عوض میں ایک صاع خرید لی انھیں لے کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا آپ نے دریافت کیا اے بلال یہ تمہیں کہاں سے ملی ہیں میں نے عرض کی میں نے دو صاع کے عوض میں ایک صاع خریدا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم انھیں واپس کردو اور ہماری کھجوریں واپس لے آؤ۔