حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ أَبِي الْيَسَرِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ قَالَ فَبَزَقَ فِي صَحِيفَتِهِ فَقَالَ اذْهَبْ فَهِيَ لَكَ لِغَرِيمِهِ وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ مُعْسِرًا
حضرت ابوایسر بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی تنگ دست مقروض کو مہلت دے یا اسے کچھ قرض معاف کردے تو اللہ تعالیٰ اس دن اس شخص کو اپنے رحمت کے سائے میں رکھے گا جس دن اللہ کی رحمت کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ راوی کہتے ہیں پھر انھوں نے اسے صحیفے (اس قرض کا معاہدہ تحریر تھا پر تھوک دیا اور بولے جاؤ یہ تمہارا ہے) یعنی یہ مقروض سے کہا راوی کہتے ہیں انھوں نے یہ بات بتائی کہ وہ مقروض تنگ دست شخص تھا۔