حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ عَنْ سَيَّارٍ رَجُلٍ مِنْ فَزَارَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُهَيْسَةَ عَنْ أَبِيهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ وَقَدْ قَالَ عُثْمَانُ فَالْتَزَمَهُ فَقَالَ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ فَقَالَ الْمِلْحُ وَالْمَاءُ قَالَ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ إِنْ تَفْعَلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ قَالَ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ إِنْ تَفْعَلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ وَانْتَهَى إِلَى الْمِلْحِ وَالْمَاءِ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ تَقُولُ بِهِ فَأَوْمَأَ بِرَأْسِهِ
بہیسہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اجازت لے کر آپ کی قمیص کے اندر اپنا منہ ڈال کر مہر نبوت کا بوسہ لیا راوی بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جسم کو اپنے جسم کے ساتھ لپٹا لیا تھا انھوں نے دریافت کیا وہ کون سی چیز ہے جسے استعمال کرنے سے روکناجائز نہیں ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نمک اور پانی۔ انھوں نے عرض کی وہ کون سی چیز ہے جس کے استعمال کرنے سے روکنا جائز نہیں ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم نیکی کروگے تو وہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے انھوں نے پھر اسی طرح دریافت کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا اگر تم نیکی کروگے تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ راوی کہتے ہیں آپ نے صرف نمک اور پانی کی پابندی کی ہے امام دارمی فرماتے ہیں ان سے سوال کیا گیا کہ آپ اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں انھوں نے سر کے اشارے سے جواب دیا جی ہاں۔