hadith book logo

Sunan Darimi: Hadith 2515

.

سنن الدارمي

2515
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ فَقَالَ مَا رَجَعَكَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا اسْتَأْذَنَ الْمُسْتَأْذِنُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ أُذِنَ لَهُ وَإِلَّا فَلْيَرْجِعْ فَقَالَ لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَتَانَا وَأَنَا فِي قَوْمٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ فَزِعٌ مِنْ وَعِيدِ عُمَرَ إِيَّاهُ فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ مِنْكُمْ رَجُلًا سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا شَهِدَ لِي بِهِ قَالَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَقُلْتُ أَخْبِرْهُ أَنِّي مَعَكَ عَلَى هَذَا وَقَالَ ذَاكَ آخَرُونَ فَسُرِّيَ عَنْ أَبِي مُوسَى
حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں حضرت ابوموسی اشعری نے حضرت عمر کے ہاں داخل ہونے کی تین مرتبہ اجازت مانگی انھیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے حضرت عمر نے دریافت کیا آپ واپس کیوں چلے گئے انھوں نے جواب دیا میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جب کوئی شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو واپس چلا جائے اگر مل جائے تو ٹھیک ہے۔ حضرت عمر بولے ہاں تو آپ اپنے ساتھ کوئی ایسا شخص لائے جاو اس بات کی گواہی دے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ورنہ میں پھر آپ کو سخت سزادوں گا۔ حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں حضرت ابوموسی اشعری ہمارے پاس تشریف لائے میں اس وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند صحابہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا حضرت عمر نے انھیں جو دھمکی دی تھی وہ اس سے گھبرائے ہوئے تھے وہ ہمارے پاس آکرکھڑے ہوئے اور بولے میں آپ حضرات کو قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ آپ میں جس شخص نے بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان سنا ہے وہ میرے حق میں گواہی دے۔ حضرت ابوسعید (رض) فرماتے ہیں میں نے سر اٹھایا اور بولا کہ آپ انھیں بتادیں کہ میں اس بارے میں آپ کے ساتھ ہوں دوسرے لوگوں نے بھی یہ بات کہی تو حضرت ابوموسی (رض) خوش ہوگئے۔