أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ مُوَرِّقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ تُلُقِّيَ بِي وَبِالْحَسَنِ أَوْ بِالْحُسَيْنِ قَالَ وَأُرَاهُ قَالَ الْحَسَنَ فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَالْحَسَنَ وَرَاءَهُ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ عَلَى الدَّابَّةِ الَّتِي عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عبداللہ بن جعفر بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس تشریف لائے تو آپ کا سامنا مجھ سے اور حضرت حسن سے ہوا راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ یہ ہیں حضرت حسین سے ہوا (راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ حضرت عبداللہ جعفر نے حضرت حسن کا نام لیا تھا) تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے آگے اور حسن کو پیچھے بٹھالیا یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ میں آگئے اور ہم اسی سواری پر سوار تھے جس پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے۔