أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَضَعَ قَدَمَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ فَاطِمَةَ فَعَلَّمَنَا مَا نَقُولُ إِذَا أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً قَالَ عَلِيٌّ فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ
حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ نے اپنا پاؤں مبارک میرے اور فاطمہ کے درمیان رکھا اور آپ نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ جب ہم بستر پر لیٹ جائیں تو ہمیں کیا پڑھنا چاہیے تینیتس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنا چاہیے۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں اس دن سے میں نے کبھی اس عمل کو ترک نہیں کیا ایک شخص نے حضرت علی (رض) سے دریافت کیا کہ جنگ صفین کی رات بھی نہیں حضرت علی (رض) نے فرمایا جنگ صفین کی رات بھی نہیں۔