أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ قَالَ قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَكْثَرُ مَا تَخَوَّفُ عَلَيَّ قَالَ فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِسَانِهِ ثُمَّ قَالَ هَذَا
حضرت سفیان بن عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ مجھے کسی ایسے کام کا حکم دیں جس کے ذریعے میں محفوظ ہوجاؤں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم یہ اقرار کرو کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور پھر اس پر استقامت اختیار کرو۔ حضرت سفیان کہتے ہیں میں نے عرض کی اے للہ کے نبی آپ کو میرے بارے میں کس بات کا زیادہ اندیشہ ہے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زبان پکڑ کر کہا اس کا۔