أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ النُّعْمَانِ هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ رَجُلٌ فِي أَرْضٍ تَنُوفَةٍ فَقَالَ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ رَاحِلَتُهُ فَعَلَا شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ عَلَا شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ عَلَا شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا قَالَ فَالْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِهَا تَجُرُّ خِطَامَهَا فَمَا هُوَ بِأَشَدَّ فَرَحًا بِهَا مِنْ اللَّهِ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ إِلَيْهِ
حضرت نعمان بن بشیر کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ایک مرتبہ ایک شخص ایک بےآب وگیاہ جگہ پر سفر کررہا تھا وہ دوپہر کے وقت ایک درخت کے نیچے سوگیا اس کے ساتھ اس کی سواری تھی جس پر اس کا سامان اور کھانے پینے کی چیزیں تھی جب وہ شخص بیدار ہوا تو اس کی سواری کہیں جاچکی تھی اس نے ادھر ادھر تلاش کی لیکن اسے کچھ نہیں ملا اس نے پھر تلاش کیا لیکن نہیں ملی۔ پھر تلاش کیا لیکن نہیں ملی۔ پھر اس نے جب توجہ کی تو سواری وہاں موجود تھی اس نے اس کی لگام کو پکڑا تو وہ شخص جتناخوش ہوا ہے اللہ کا بندہ جب اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔