أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا فَقَالَ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ قَالَ قُلْتُ ذَلِكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ قَالَ أَجَلْ وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حُطَّ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت تکلیف میں مبتلا تھے میں نے اپنا ہاتھ آپ کے اوپر رکھا اور عرض کی یا رسول اللہ آپ بخار میں مبتلا ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مجھے اتنابخار ہے جتنا دو آدمیوں کو ہوتا ہے میں نے عرض کی پھر تو آپ کو اجر بھی دوگنا ملے گا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہاں۔ جس بھی مسلمان کو کوئی مصیبت یا بیماری ملتی ہے یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز لاحق ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے اس کے گناہوں میں سے کچھ گناہ اس طرح جھاڑ دیئے جاتے ہیں جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔