أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ هُوَ رَوْحُ بِنُ أَسْلَمَ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ إِذْ ضَحِكَ فَقَالَ أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّا أَضْحَكُ فَقَالُوا مِمَّ تَضْحَكُ قَالَ عَجَبًا مِنْ أَمْرِ الْمُؤْمِنِ كُلُّهُ لَهُ خَيْرٌ إِنْ أَصَابَهُ مَا يُحِبُّ حَمِدَ اللَّهَ عَلَيْهِ فَكَانَ لَهُ خَيْرٌ وَإِنْ أَصَابَهُ مَا يَكْرَهُ فَصَبَرَ كَانَ لَهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ كُلُّ أَحَدٍ أَمْرُهُ لَهُ خَيْرٌ إِلَّا الْمُؤْمِنَ
حضرت صہیب بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان تشریف فرما تھے آپ مسکرادیئے آپ نے فرمایا کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کیوں مسکرارہاہوں لوگوں نے عرض کی آپ کیوں مسکرائے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا مجھے مومن کے بارے میں حیرت ہوتی ہے کہ ہر چیز اس کے لیے بہتر ہے اگر اسے کوئی ایسی صورت حال لاحق ہو جو اسے پسند ہو تو وہ اس پر اللہ کی حمد بیان کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتی ہے اور اگر اسے کوئی ایسی صورت حال لاحق ہو جو اسے ناپسند ہو تو وہ اسپر صبر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ صرف مومن ہی وہ مرد ہے جس کا ہر معاملہ بہتر ہوتا ہے۔