حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ رَجُلٍ تَرَكَ بِنْتًا وَأُخْتًا فَقَالَ لِابْنَتِهِ النِّصْفُ وَلِأُخْتِهِ مَا بَقِيَ وَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَانَ يَجْعَلُ الْأَخَوَاتِ مَعَ الْبَنَاتِ عَصَبَةً لَا يَجْعَلُ لَهُنَّ إِلَّا مَا بَقِيَ
بشر بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں میں نے ابن ابی زیاد سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی ہو انھوں نے جواب دیا اس کی بیٹی کو نصف حصہ ملے گا اور بقیہ مال اس کی بہن کو مل جائے گا راوی بیان کرتے ہیں انھوں نے یہ بات بھی بیان کی کہ میرے والد نے حضرت خارجہ بن زید کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے کہ حضرت زید بن ثابت بہنوں کو بیٹیوں کے ہمراہ عصبہ قرار دیتے تھے وہ انھیں بقیہ بچ جانے والا مال نہیں دیا کرتے تھے۔