أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سُئِلَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ الْكَلَالَةِ فَقَالَ إِنِّي سَأَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنْ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنْ الشَّيْطَانِ أُرَاهُ مَا خَلَا الْوَالِدَ وَالْوَلَدَ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ قَالَ إِنِّي لَأَسْتَحْيِي اللَّهَ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا قَالَهُ أَبُو بَكْرٍ
شعبی بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر (رض) سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا گیا انھوں نے ارشاد فرمایا میں اس بارے میں اپنی رائے سے جواب دوں گا اگر وہ ٹھیک ہوئی تو اللہ کے فضل سے ہوگی اور اگر میں اس کوئی غلطی ہوئی تو وہ میری اور شیطان کی طرف سے ہوگی میرا یہ خیال ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی اولاد بھی نہ ہو اور والد بھی نہ ہو۔ جب حضرت عمر ان کے نائب بنے تو انھوں نے یہ فرمایا مجھے اس بات سے اللہ کی بارگاہ میں حیاء آتی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) جو رائے پیش کرچکے ہوں میں اسے مسترد کروں۔