أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَخِيهِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عِمْرَانَ الْمِنْقَرِيِّ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ يَوْمًا فِي شَيْءٍ قَالَهُ يَا أَبَا سَعِيدٍ لَيْسَ هَكَذَا يَقُولُ الْفُقَهَاءُ فَقَالَ وَيْحَكَ وَرَأَيْتَ أَنْتَ فَقِيهًا قَطُّ إِنَّمَا الْفَقِيهُ الزَّاهِدُ فِي الدُّنْيَا الرَّاغِبُ فِي الْآخِرَةِ الْبَصِيرُ بِأَمْرِ دِينِهِ الْمُدَاوِمُ عَلَى عِبَادَةِ رَبِّهِ
عمران منقری بیان کرتے ہیں میں نے حضرت حسن بصری سے ایک دن کسی بات کے بارے میں جو انھوں نے بیان کی تھی یہ کہا اے ابوسعید فقہاء ایسے نہیں کہتے جو آپ نے بیان کیا ہے تو حضرت حسن بصری نے فرمایا تمہارا ستیا ناس ہو کیا تم نے کبھی کوئی فقیہ دیکھا ہے فقیہ وہ شخص ہوتا ہے جو دنیا سے بےرغبت ہو۔ آخرت کی طرف متوجہ ہو اپنے دین کے معاملات کا نگران ہو اور ہمیشہ اپنے پروردگار کی عبادت میں مصروف رہے۔