حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ مُحَارِبٍ وَهَبَتْ وَلَاءَ عَبْدِهَا لِنَفْسِهِ فَأَعْتَقَتْهُ فَوَهَبَ وَلَاءَ نَفْسِهِ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَمَاتَتْ فَخَاصَمَتْ الْمَوَالِي إِلَى عُثْمَانَ فَدَعَا عُثْمَانُ الْبَيِّنَةَ عَلَى مَا قَالَ قَالَ فَأَتَى الْبَيِّنَةُ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ اذْهَبْ فَوَالِ مَنْ شِئْتَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَوَالَى عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ
ابوبکر بن عمرو (رض) بن حزم بیان کرتے ہیں محارب قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے اپنے غلام کی ولاء کا حق اسے دیدیا پھر اسے آزاد کردیا اس غلام نے اپنی ولاء کا حق عبدالرحمن بن عمرو (رض) بن حزم کو دے دیا یا وہ عورت فوت ہوئی اس کے سرپرست یہ مقدمہ لے کر حضرت عثمان (رض) کے پاس آئے حضرت عثمان (رض) نے اس غلام کے بیان کے ثبوت طلب کئے تو وہ ثبوت پیش کردیئے گئے تو حضرت عثمان (رض) نے اس سے فرمایا تم جاؤ اور جس کے ساتھ چاہو موالات کرسکتے ہو۔ ابوبکر بیان کرتے ہیں اس شخص نے عبدالرحمن بن عمرو (رض) بن حزم کے ساتھ موالات قائم کی تھی۔