أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ لِي ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ مَا فَعَلَ أَبُوكَ قُلْتُ مَاتَ قَالَ فَهَلْ أَوْصَى فَإِنَّهُ كَانَ يُقَالُ إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ كَانَ وَصِيَّتُهُ تَمَامًا لِمَا ضَيَّعَ مِنْ زَكَاتِهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد و قَالَ غَيْرُهُ الْقَاسِمُ بْنُ عَمْرٍو
قاسم بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں ثمامہ بن حزن نے مجھ سے دریافت کیا تمہارے والد کا کیا حال ہے میں نے جواب دیا ان کا انتقال ہوگیا انھوں نے دریافت کیا انھوں نے وصیت کردی تھی کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص وصیت کردیتا ہے تو اس کی زکوۃ کے حوالے سے جو کمی ہو یہ وصیت اسے پورا کردیتی ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس روایت کے راوی قاسم بن عمر (رض) کو دیگر محدثین نے قاسم بن عمر (رض) نے روایت کیا ہے۔