حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ الْيَامِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا قُلْتُ فَكَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ فَقَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ و قَالَ هُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلَ أَبُو بَكْرٍ كَانَ يَتَأَمَّرُ عَلَى وَصِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَّ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ وَجَدَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا فَخَزَمَ أَنْفَهُ بِخِزَامَةٍ
طلحہ بن مصرف یامی بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے دریافت کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت کی تھی انھوں نے جواب دیا نہیں میں نے پوچھا پھر لوگوں پر وصیت کرنا لازم کیوں کیا گیا یا انھیں وصیت کرنے کا حکم کیوں دیا گیا انھوں نے جواب دیا آپ نے اللہ کی کتاب کے مطابق وصیت کی تھی۔ ہزیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصیت کی مکمل طور پر پیروی کرتے تھے ان کی یہ خواہش تھی کہ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے کوئی بھی حکم پائیں تو اسے اپنے ناک میں لگام کے طور پر لگائیں یعنی اس کی مکمل پیروی کریں۔