حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ قَالَ كُنْتُ تَحْتَ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَنُوصُ بَيْنَ كَتِفَيَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَلَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا يَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ
عمرو بن خارجہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کے نیچے موجود تھا وہ جگالی کررہی تھی اور اس کا جگال میرے کندھوں کے درمیان گر رہا تھا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے خبردار بیشک اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے اس لیے وارث کے بارے میں وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔