أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ مَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْإِيمَانَ وَلَمْ يُؤْتَ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَلَمْ يُؤْتَ الْإِيمَانَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ الْآسَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَالْإِيمَانَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الَّذِي لَمْ يُؤْتَ الْإِيمَانَ وَلَا الْقُرْآنَ مَثَلُ الْحَنْظَلَةِ رِيحُهَا خَبِيثٌ وَطَعْمُهَا خَبِيثٌ
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں جس شخص کو ایمان دیا گیا ہو اور قرآن نہ دیا گیا ہو اس کی مثال کھجور کی مانند ہے جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی جس شخص کو قرآن دیا گیا اور ایمان نہ دیا گیا ہو اس کی مثال آساء نامی پھل کی ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور جس شخص کو قرآن بھی دیا گیا ہو اور ایمان بھی دیا گیا ہو اس کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور جس شخص کو نہ قرآن نہ ایمان دیا گیا ہو اس کی مثال حنظلہ کی سی ہے جس کی بو بھی بری ہوتی ہے اور ذائقہ بھی برا ہوتا ہے۔