أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ بِحَدِيثٍ فَلَقِيتُهُ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَخَذْتُ بِلِجَامِهِ فَقُلْتُ يَا أَبَا بَكْرٍ أَعِدْ عَلَيَّ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثْتَنَا بِهِ قَالَ وَتَسْتَعِيدُ الْحَدِيثَ قَالَ قُلْتُ وَمَا كُنْتَ تَسْتَعِيدُ الْحَدِيثَ قَالَ لَا قُلْتُ وَلَا تَكْتُبُ قَالَ لَا
مالک بن انس ارشاد فرماتے ہیں ایک مرتبہ امام زہری کو ایک حدیث کا پتا چلا میرا ان سے راستے میں سامنا ہوا میں نے ان کی سواری کی لگام پکڑی اور درخواست کی اے ابوبکر (رض) آپ نے ہمارے سامنے جو فلاں حدیث بیان کی تھی اسے میرے سامنے دہرا دیں۔ زہری نے دریافت کیا کیا تم حدیث دوبارہ سننا چاہتے ہو میں نے دریافت کیا آپ دو بار حدیث نہیں سناتے۔ انھوں نے جواب دیا نہیں میں نے دریافت کیا آپ اسے لکھتے بھی نہیں ہیں انھوں نے جواب دیا نہیں۔