أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَ مُحَمَّدًا عَلَى الْأَنْبِيَاءِ وَعَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ فَقَالُوا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ بِمَ فَضَّلَهُ عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِأَهْلِ السَّمَاءِ وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ الْآيَةَ وَقَالَ اللَّهُ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالُوا فَمَا فَضْلُهُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ الْآيَةَ وَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ فَأَرْسَلَهُ إِلَى الْجِنِّ وَالْإِنْسِ
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں بیشک اللہ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام انبیاء پر فضیلت عطا کی اور آسمان کی جملہ مخلوقات پر فضیلت عطاکی لوگوں نے دریافت کیا اے حضرت ابن عباس (رض) ! اللہ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آسمان والوں پر کیسے فضیلت عطا کی ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے جواب دیا اللہ نے آسمان والوں سے یہ ارشاد فرمایا آیت (ترجمہ) " اور ان میں سے جو یہ کہے کہ اس کی بجائے میں معبود ہوں تو ہم اس کی جزا جہنم کردیں گے۔ ظلم کرنے والوں کو ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ " جب کہ اللہ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ ارشاد فرمایا آیت۔ " بیشک ہم نے تمہیں واضح فتح عطا کی تاکہ اللہ تمہارے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت کردے۔
لوگوں نے دریافت کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انبیاء پر فضیلت کیا ہے حضرت ابن عباس (رض) نے جواب دیا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے۔ آیت۔ " ہم نے جو بھی رسول مبعوث کیا اسے اس کی قوم کی زبان کے ہمراہ مبعوث کیا تاکہ وہ اس قوم کے لیے واضح طور پر اللہ کے احکام بیان کردے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ ارشاد فرمایا۔ آیت۔ اور ہم نے تمہیں تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث کیا ہے۔