حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ عَقَدَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ قَالَ عَقَدَهُنَّ فِي يَدِهِ وَيَدُهُ فِي يَدِي سُبْحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَاللَّهُ أَكْبَرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالْوُضُوءُ نِصْفُ الْإِيمَانِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ
جرمی نہدی بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ہاتھ پر ان باتوں کو گنا، راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ یہ ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ پر ان باتوں کو گنا اور آپ کا دست اقدس میرے ہاتھ میں تھا وہ باتیں یہ تھیں۔ سبحان اللہ پڑھنا نصف میزان کے برابر ہے اور الحمدللہ پڑھنا میزان کے نیکیوں کے پلڑے کو بھر دیتا ہے اللہ اکبر کہنا آسمان اور زمین کے خلا کو بھر دیتا ہے۔ وضو نصف ایمان اور روزہ نصف صبر ہے۔