أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُوذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ هَلْ أَمَرْتُنَّ أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ أَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَرُبَّ قَائِلٍ مُتَمَنٍّ وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ
سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری کے دوران آپ کو نماز کے لیے بلوایا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا ابوبکر (رض) سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ پھر آپ پر مدہوشی طاری ہوگئی جب افاقہ ہوا تو آپ نے پھر ارشاد فرمایا کیا تم نے ابوبکر (رض) سے کہہ دیا ہے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ (سیدہ عائشہ (رض) نے عرض کیا) ابوبکر (رض) نرم دل کے آدمی ہیں۔ حضرت عمر کو ہدایت کریں ( تو یہ مناسب ہوگا) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم بھی یوسف کے زمانے کے عورتوں کی طرح ہو۔ ابوبکر (رض) سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ بہت سے لوگ یہ تمنا رکھتے ہوں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان ابوبکر (رض) سے ہی راضی ہیں۔