أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَتْ امْرَأَةٌ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ أَقْضِي مَا تَرَكْتُ مِنْ صَلَوَاتِي فِي الْحَيْضِ عِنْدَ الطُّهْرِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ وَتَطْهُرُ فَلَا يَأْمُرُنَا بِالْقَضَاءِ
عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک خاتون سیدہ عائشہ (رض) صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی حیض کے دوارن میری جو نمازیں قضا ہوگئی تھیں پاک ہوجانے کے بعد میں ان کی قضا ادا کروں گی ؟ سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا کیا تم " حروریہ " ہو ؟ ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہے ہیں ہم میں سے کسی ایک کو حیض آجاتا تھا اور جب وہ پاک ہوجاتی تھی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں قضا نماز ادا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔