1020 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِىُّ وَعَلِىُّ بْنُ شُعَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عَوْنٍ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ إِشْكَابَ. وَحَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِىِّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ فَقَالَ « صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ ». قَالَ فَأَمَرَ بِلاَلاً حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِى أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ ذَلِكَ الَّذِى كَانَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ « أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ ». فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَقْتُ صَلاَتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ ».
1020 ۔ سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم دو دن ہمارے ساتھ نماز ادا کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو اذان دینے کا اس وقت حکم دیا جب سورج ڈھل چکا تھا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ نے انھیں حکم دیا انھوں نے عصر کے لیے اقامت کہی جب کہ سورج ابھی بلند روشن اور چمک دار تھا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا تو انھوں نے مغرب کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج غروب ہوچکا تھا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت انھوں نے عشاء کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب شفق غروب ہوچکی تھی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت انھوں نے فجر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب صبح صادق طلوع ہوچکی تھی۔
جب دوسرا دن آیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ ہدایت کی کہ وہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کیرں تو انھوں نے اسے ٹھنڈے وقت میں ادا کیا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ہدایت کی کہ تو انھوں نے عصر کے لیے اقامت کہی جب کہ سورج ابھی بلند تھا، لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن پہلے دن کے مقابلے میں اس نماز کو ذرا تاخیر سے ادا کیا تھا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ہدایت کی تو انھوں نے مغرب کی نماز کے لیے اقامت کہی اس وقت جب ابھی شفق غروب نہیں ہوئی تھی ، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت انھوں نے فجر کے لیے اقامت کہی اس وقت جب روشنی پھیل چکی تھی ، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا : نماز کے وقت کے بارے میں سوال کرنے و الاشخص کہاں ہے ؟ تو اس شخص نے آپ کو جواب دیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہاری نماز کے اوقات ان دونوں کے درمیان میں ہیں جو تم نے دیکھے ہیں۔