1037 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ إِذَا أُذِّنَ بِالْمَغْرِبِ ابْتَدَرَ الْقَوْمُ السَّوَارِىَ يُصَلُّونَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِنَّ الْغَرِيبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيُرَى أَنَّ الصَّلاَةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيهَا .
1037 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : مدینہ منورہ میں ہمارا یہ معمول تھا جب مغرب کی اذان دی جاتی تھی توہم لوگ تیزی سے ستونوں کی طرف لپکتے تھے اور دو رکعت (فرض سے پہلے نوافل کے طور پر) ادا کرتے تھے یہاں تک کہ کوئی اجنبی شخص مسجد میں داخل ہوتا تو اسے یہی محسوس ہوتا کہ شاید نماز ادا کی جاچکی ہے ، کیونکہ ان دو رکعت کو ادا کرنے والے کثیر تعداد میں ہوتے تھے۔