hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 1048

.

سنن الدارقطني

1048
Sunan Al Daraqutni
1048 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِىٍّ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِىُّ قَالَ وَجَدْتُ فِى كِتَابِ أَبِى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَرْزَمِىُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَرِيَّةً كُنْتُ فِيهَا فَأَصَابَتْنَا ظُلْمَةٌ فَلَمْ نَعْرِفِ الْقِبْلَةَ فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنَّا قَدْ عَرَفْنَا الْقِبْلَةَ هِىَ هَا هُنَا قِبَلَ الشَّمَالِ فَصَلَّوْا وَخَطُّوا خَطًّا وَقَالَ بَعْضُنَا الْقِبْلَةُ هَا هُنَا قِبَلَ الْجَنُوبِ وَخَطُّوا خَطًّا فَلَمَّا أَصْبَحُوا وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ أَصْبَحَتْ تِلْكَ الْخُطُوطُ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ فَلَمَّا قَفَلْنَا مِنْ سَفَرِنَا سَأَلْنَا النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ ذَلِكَ فَسَكَتَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ) أَىْ حَيْثُ كُنْتُمْ. قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَرْزَمِىُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِى التَّطَوُّعِ خَاصَّةً حَيْثُ تَوَجَّهَ بِكَ بَعِيرُكَ.
1048 ۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مہم روانہ کی میں بھی اس میں موجود تھا، ایک مرتبہ انتہائی تاریکی کے اندر ہمیں قبلہ کی سمت کا اندازہ نہیں ہوسکا، تو ہم میں سے کئی لوگوں نے یہ کہا کہ ہمیں قبلہ اندازہ ہوگیا ہے ، وہ اس طرح ہے انھوں نے شمال کی طرف اشارہ کیا انھوں نے اس طرف رخ کرکے نماز ادا کرلی اور یادداشت کے طور پر ادھر ایک لکیر لگادی بعض لوگوں نے کہا قبلہ اس سمت ہے انھوں نے جنوب والی سمت کی طرف اشارہ کیا تھا، انھوں نے اس طرف لکیر لگادی جب صبح ہوئی اور سورج نکلا تو وہ دونوں لکیریں قبلہ کی سمت میں نہیں تھیں جب ہم اپنے سفر سے واپس ہوئے اور ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں دریافت کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
'' مشرق اور مغرب اللہ ہی کے لیے ہیں تم جس طرف بھی رخ کرو گے تو اسی طرف اللہ کی ذات موجود ہوگی ''۔
اس سے مراد یہ ہے ) یعنی تم جہاں کہیں بھی ہوگے۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں یہ آیت بطور خاص نفل نماز کے بارے میں نازل ہوئی تھی یعنی تمہاری سواری کا رخ جس طرح بھی ہوگا تم اس طرف منہ کرکے نماز پڑھ سکتے ہو۔