1194 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِى مُوسَى النَّهْرَتِيرِىَّ حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ حَدَّثَنَا فَيْضُ بْنُ إِسْحَاقَ الرَّقِّىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ صَلَّى صَلاَةً مَكْتُوبَةً مَعَ الإِمَامِ فَلَيَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِى سَكَتَاتِهِ وَمَنِ انْتَهَى إِلَى أُمِّ الْقُرْآنِ فَقَدْ أَجْزَأَهُ ». مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ ضَعِيفٌ.
1194 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص امام کے ساتھ نماز ادا کرے اسے امام کے سکتہ کے دوران سورة فاتحہ پڑھ لینی چاہیے اور جو شخص سورت مکمل پڑھ لے تو ایسا کرنا ہی اس کے لیے کافی ہوگا۔
محمد بن عبداللہ بن عبید نامی راوی ضعیف ہے۔