1198 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِىِّ - وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ - عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الصُّبْحَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَّمَا انْصَرَفَ قَالَ « إِنِّى لأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ مِنْ وَرَاءِ إِمَامِكُمْ ». قَالَ قُلْنَا أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذًّا. قَالَ « فَلاَ تَفْعَلُوا إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا » . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ.
1198 ۔ حضرت محمود بن ربیع انصاری جو ایلیاء میں قیام پذیر تھے وہ حضرت عبادہ بن صامت کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز ادا کی آپ کو قرات کرنے میں کچھ دشواری محسوس ہوئی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرات کررہے تھے ۔ راوی کہتے ہیں ہم نے عرض کیا اللہ کی قسم یارسول اللہ ایسا ہی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ایسانہ کیا کرو البتہ سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو چونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز (کامل) نہیں ہوتی۔
یہ سند '' حسن '' ہے۔