1202 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِىُّ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ أَخْبَرَنِى زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِىِّ قَالَ نَافِعٌ أَبْطَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ عَنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاَةَ - وَكَانَ أَبُو نُعَيْمٍ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ فِى بَيْتِ الْمَقْدِسِ - فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَبُو نُعَيْمٍ وَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِى نُعَيْمٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لِعُبَادَةَ قَدْ صَنَعْتَ شَيْئًا فَلاَ أَدْرِى أَسُنَّةٌ هِىَ أَمْ سَهْوٌ كَانَ مِنْكَ. قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ قَالَ أَجَلْ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِى يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ « هَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ ». فَقَالَ بَعْضُنَا إِنَّا لَنَصْنَعُ ذَلِكَ. قَالَ « فَلاَ تَفْعَلُوا وَأَنَا أَقُولُ مَا لِى أُنَازَعُ الْقُرْآنَ فَلاَ تَقْرَءُوا بِشَىْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ». كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
1202 ۔ حضرت نافع بن محمود بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عبادہ بن صامت (رض) صبح کی نماز میں تاخیر سے پہنچے ابونعیم نامی موذن نے نماز کے لیے اقامت کہہ دی ابونعیم وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے بیت المقدس میں اذان دی تھی ، ابونعیم لوگوں کو نماز پڑھانے لگے اسی دوران حضرت عبادہ بن صامت آگئے میں ان کے ساتھ تھا، ہم نے ابونعیم کی اقتداء میں صف قائم کرلی ابونعیم نے بلند آواز میں قرات کرنا شروع کی تو حضرت عبادہ بھی سورة فاتحہ پڑھنے لگے۔
(راوی کہتے ہیں) جب انھوں نے نماز مکمل کرلی تو میں نے حضرت عبادہ (رض) سے کہا آپ نے ایک ایساعمل کیا ہے جس کے بارے میں مجھے اندازہ نہیں ہوسکا کہ کیا یہ سنت ہے ؟ یا آپ نے غلطی سے ایسا کرلیا ہے ؟ حضرت عبادہ نے دریافت کیا وہ کون سا ہے ؟ راوی کہتے ہیں میں نے آپ کو سورت فاتحہ پڑھنے ہوئے سنا ہے جبکہ ابونعیم بلند آواز سے قرات کررہے تھے توحضڑت عبادہ (رض) نے فرمایا ایسا ہی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک نماز پڑھائی جس میں بلند آواز سے قرات کی جاتی ہے تو اس دوران آپ کو قرات کرنے میں دشواری ہوئی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا ، جب میں بلند آواز میں قرات کررہا تھا تو کیا تم بھی قرات کررہے تھے ؟ تو ہم میں سے بعض حضرات نے کہا ہم نے ایسا کیا ہے ، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم ایسانہ کرو میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا قرآن کے حوالے سے میرے ساتھ مقابلہ کیا جارہا ہے جب میں بلند آواز میں قرات کررہاہوں تو تم قرآن کی قرات نہ کیا کرو البتہ سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو۔
اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔