1247 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ وَغَيْرُهُ قَالُوا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِى أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِى الدَّرْدَاءِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَفِى كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ قَالَ « نَعَمْ ». فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَجَبَتْ هَذِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِى وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ إِلَيْهِ « مَا أَرَى الإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلاَّ قَدْ كَفَاهُمْ ». كَذَا قَالَ. وَهُوَ وَهَمٌ مِنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ.
وَالصَّوَابُ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ مَا أَرَى الإِمَامَ إِلاَّ قَدْ كَفَاهُمْ.
1247 ۔ حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا : کیا ہر نماز میں قرات کی جائے گی ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو انصار میں سے ایک شخص نے عرض کی : تو یہ واجب ہوگئی۔ (راوی کہتے ہیں) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا میں کیونکہ حاضرین میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ قریب بیٹھا ہوا تھا ، (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا) امام جب لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہو تو اس کا قرات کرنا ہی ان لوگوں کے لیے کافی ہوگا۔
راوی نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے تاہم زیدنامی راوی کو اس میں وہم ہوا ہے۔ (سابقہ روایت کی درست شکل یہ ہے ) حضرت ابودرداء نے یہ بات ارشاد فرمائی : میں یہ سمجھتاہوں کہ امام کا قرات کر لیناان سب لوگوں کے لیے کافی ہوگا۔