1250 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِىٍّ الْجَوْهَرِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَارُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلاَةً فَلَمَّا قَضَاهَا قَالَ « هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعِى بِشَىْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ ». فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنِّى أَقُولُ مَا لِى أُنَازَعُ الْقُرْآنَ إِذَا أَسْرَرْتُ بِقِرَاءَتِى فَاقْرَءُوا مَعِى وَإِذَا جَهَرْتُ بِقِرَاءَتِى فَلاَ يَقْرَأَنَّ مَعِى أَحَدٌ ». تَفَرَّدَ بِهِ زَكَرِيَّا الْوَقَارُ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ مَتْرُوكٌ.
1250 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک نماز پڑھائی جب آپ نے اسے مکمل کرلیا تو دریافت کیا کیا تم میں سے کسی شخص نے میرے ساتھ قرآن کی قرات کی ہے ؟ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کی : میں نے یارسول اللہ ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ قرات میں کون میرا مقابلہ کررہا ہے جب میں پست آواز میں قرات کررہاہوں تو تم بھی میرے ساتھ قرات کرلیاکرو اور جب میں بلند آواز میں قرات کروں تو کوئی شخص میرے ساتھ قرات نہ کرے ۔
اس روایت کو نقل کرنے میں زکریا نامی راوی منفرد ہے اور یہ شخص منکرالحدیث ہے اور متروک ہے۔