hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 1316

.

سنن الدارقطني

1316
Sunan Al Daraqutni
1316 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى غَلاَّبٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِىِّ أَنَّهُمْ صَلَّوْا مَعَ أَبِى مُوسَى الأَشْعَرِىِّ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَطَبَنَا فَكَانَ يُبَيِّنُ لَنَا مِنْ صَلاَتِنَا وَيُعَلِّمُنَا سُنَّتَنَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ قَوْلِ أَحَدِكُمْ « التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِىُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ». زَادَ فِيهِ عَلَى أَصْحَابِ قَتَادَةَ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَخَالَفَهُ هِشَامٌ وَسَعِيدٌ وَأَبَانُ وَأَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُهُمْ عَنْ قَتَادَةَ. وَهَذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ حَسَنٌ.
1316 ۔ حطان بن عبداللہ رقاشی بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے حضرت ابوموسی اشعری (رض) کی اقتداء میں نماز ادا کی تو حضرت ابوموسی اشعری نے بتایا : ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ہمارے سامنے نماز پڑھنے کا طریقہ بیان کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں سنت کی تعلیم دی ۔
اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں یہ الفاظ بھی ہیں : جب کوئی شخص قعدہ میں بیٹھے تو یہ الفاظ پڑھے :
'' تمام قولی اور جسمانی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں اے نبی ! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی بھی دیتاہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔
قتادہ نامی راوی کے شاگردوں نے اسمیں یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں : وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ جبکہ دیگرراویوں نے قتادہ کے حوالے سے اس کے برعکس نقل کیا ہے اس روایت کی سند متصل ہے اور حسن ہے۔