1356 - حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ ح وَحَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِى ضِرَارٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ فَلَمَّا أَصْبَحَ نَظَرَ فِى ثَوْبِهِ احْتِلاَمًا فَقَالَ كَبِرْتُ وَاللَّهِ أَلاَ أُرَانِى أُجْنِبُ ثُمَّ لاَ أَعْلَمُ ثُمَّ أَعَادَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يُعِيدُوا. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَأَلْتُ سُفْيَانَ عَنْهُ فَقَالَ قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ وَلاَ أَجِىءُ بِهِ كَمَا أُرِيدُ.
قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ الْجُنُبُ يُعِيدُ وَلاَ يُعِيدُونَ مَا أَعْلَمُ فِيهِ اخْتِلاَفًا. وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ وَلاَ أَحْفَظُهُ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا.
1356 ۔ محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی (رض) نے لوگوں کو نماز پڑھادی ، وہ اس وقت جنابت کی حالت میں تھے بعد میں جب انھوں نے اپنے کپڑے پر احتلام کا نشان دیکھا توبولے : میں بوڑھا ہوگیا ہوں، اللہ کی قسم میرا خیال ہے مجھے جنابت لاحق ہوگئی تھی لیکن مجھے اس کا پتا نہیں چل سکا، پھر حضڑت عثمان نے نماز کو دہرایا اور البتہ انھوں نے لوگوں کو وہ نماز دوبارہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا۔
عبدالرحمن نامی راوی بیان کرتے ہیں : اس بات پر اتفاق ہے جنابت والاشخص اس نماز کو دہرائے گا البتہ لوگ اس نماز کو دوبارہ ادا نہیں کریں گے میرے علم کے مطابق اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔