1359 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلاَةً مَكْتُوبَةً فَضَمَّ يَدَهُ فِى الصَّلاَةِ فَلَمَّا صَلَّى قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِى الصَّلاَةِ شَىْءٌ قَالَ « لاَ إِلاَّ أَنَّ الشَّيْطَانَ أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَىَّ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدِى وَايْمُ اللَّهِ لَوْلاَ مَا سَبَقَنِى إِلَيْهِ أَخِى سُلَيْمَانُ لاَرْتُبِطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِى الْمَسْجِدِ حَتَّى يُطِيفَ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ».
1359 ۔ حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں ایک فرض نماز ادا کی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کے دوران اپنے ہاتھوں کو ملالیا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کی : یارسول اللہ : آپ نے نماز کے دوران ایک نیاکام کیا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نہیں شیطان یہ چاہتا تھا کہ وہ میرے آگے سے گزرے تو میں نے اسے گردن سے پکڑ لیا۔ یہاں تک کہ میں اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنے ہاتھوں پر محسوس کی ، اللہ کی قسم اگر مجھ سے پہلے میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) یہ دعا نہ کرچکے ہوتے تو میں اس شیطان کو اس مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیتا اور مدینہ منورہ کے بچے اس کے گرد گھومتے (اور اس کا مذاق اڑاتے) ۔