1362 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعَشِىِّ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ - قَالَ - فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِى مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى يُعْرَفُ فِى وَجْهِهِ الْغَضَبُ ثُمَّ خَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ قَصُرَتِ الصَّلاَةُ قَصُرَتِ الصَّلاَةُ وَفِى النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ فَقَامَ رَجُلٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُسَمِّيهِ ذَا الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلاَةُ قَالَ « لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تَقْصُرِ الصَّلاَةُ ». قَالَ بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ « أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ». فَأَوْمَئُوا أَىْ نَعَمْ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى مُقَامِهِ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ . فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ سَلَّمَ فِى السَّهْوِ قَالَ لَمْ أَحْفَظْ مِنْ أَبِى هُرَيْرَةَ وَلَكِنْ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ ثُمَّ سَلَّمَ .
1362 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ظہر یاشاید عصر کی نماز پڑھائی، راوی بیان کرتے ہیں : آپ نے دو رکعت پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ مسجد کے اگلے حصے میں موجود لکڑی کے پاس کھڑے ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیے ، آپ نے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے اوپر رکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے ناراضگی کا اظہار ہورہا تھا جلد باز لوگ مسجد سے باہر چلے گئے وہ یہ کہہ رہے تھے نماز مختصر ہوگئی ہے نماز مختصر ہوگئی ہے ، حاضرین میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) بھی موجود تھے ، لیکن انھیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرنے کی جرات نہیں ہوئی ایک شخص کھڑا ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے ذوالیدین (دوہاتھوں والا) کا نام دیا تھا اس شخص نے عرض کی : یارسول اللہ آپ بھول گئے تھے یانماز مختصر ہوگئی ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا، نہ تو میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز مختصر ہوئی ہے ، اس نے عرض کیا یارسول اللہ شاید آپ بھول گئے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاضرین کی طرف دیکھا اور دریافت کیا : کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے ؟ تو لوگوں نے اشارہ کیا جی ہاں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس اپنی جگہ تشریف لائے اور آپ نے بقیہ دو رکعت پڑھانے کے بعد پھر سلام پھیرا، پھر آپ نے تکبیر کہتے ہوئے عام سجدوں کی طرح یا اس سے کچھ زیادہ طویل سجدہ کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔
محمد نامی راوی سے دریافت کیا گیا : کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ سہو کرنے سے پہلے سے سلام پھیرا تھا ؟ تو انھوں نے جواب دیا مجھے حضرت ابوہریرہ (رض) کے حوالے سے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں البتہ مجھے یہ بات بتائی گئی ہے : حضرت عمران بن حصین (رض) نے یہ بات نقل کی ہے : پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا۔