1387 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا عَمِّى يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِىُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِى عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ الأَنْصَارِىُّ ثُمَّ الزُّرَقِىُّ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ خَرَجَ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسْجِدِ لَهُ حُصَاصٌ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ رَجَعَ فَإِذَا أَقَامَ الْمُؤَذِّنُ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَلَهُ ضُرَاطٌ فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ حَتَّى يَأْتِىَ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ فِى صَلاَتِهِ فَيَدْخُلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نَفْسِهِ لاَ يَدْرِى أَزَادَ فِى صَلاَتِهِ أَمْ نَقَصَ فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمْ ».
1387 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب موذن اذان دیتا ہے تو شیطان مسجد سے نکلتا ہے اس کی ہوا خارج ہورہی ہوتی ہے ، جب موذن خاموش ہوتا ہے تو شیطان واپس آجاتا ہے ، پھر جب موذن اقامت کہتا ہے تو شیطان پھر مسجد سے نکل جاتا ہے اور اس کی ہوا خارج ہورہی ہوتی ہے پھر جب موذن خاموش ہوجاتا ہے تو وہ واپس آجاتا ہے ، وہ مسلمان شخص کے پاس اس کی نماز کے دوران آتا ہے اور اس کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات پیدا کرتا ہے جس کے بعد اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ اس نے نماز میں اضافہ کردیا ہے یاکمی کردی ہے جب کسی شخص کو اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑے تو جب وہ بیٹھا ہوا ہو (یعنی تشہد پڑھنے کے دوران) وہ دو مرتبہ سجدہ سہو کرے ایساوہ سلام پھیرنے سے پہلے کرے اور پھر سلام پھیر دے۔