1396 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هَارُونَ بْنِ رُسْتُمَ السَّقَطِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو يَحْيَى الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ عَنْ أَبِى الْحُسَيْنِ الْمَدِينِىِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ عَلَى مَنْ خَلْفَ الإِمَامِ سَهْوٌ فَإِنْ سَهَا الإِمَامُ فَعَلَيْهِ وَعَلَى مَنْ خَلْفَهُ السَّهْوُ وَإِنْ سَهَا مَنْ خَلْفَ الإِمَامِ فَلَيْسَ عَلَيْهِ سَهْوٌ وَالإِمَامُ كَافِيهِ ».
1396 ۔ سالم بن عبداللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر (رض)) کے حوالے سے حضرت عمر (رض) کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص امام کی اقتداء میں ہو (اس کی کسی اپنی غلطی کی وجہ سے ) اس پر سجدہ سہو کرنا لازم نہیں ہوگا، لیکن اگر امام سے کوئی غلطی ہوجائے تو امام پر بھی سجدہ سہو کرنا لازم ہوگا اور اس کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والوں پر بھی لازم ہوگا۔
لیکن اگر امام کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والے سے کوئی غلطی ہوتی ہے تواب اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا، بلکہ امام اس کے لیے کافی ہوگا۔