1424 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى غَزْوَةٍ - أَوْ قَالَ فِى سَرِيَّةٍ - فَلَمَّا كَانَ آخِرُ السَّحَرِ عَرَّسْنَا فَمَا اسْتَيْقَظْنَا حَتَّى أَيْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَثِبُ فَزِعًا دَهِشًا فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَنَا فَارْتَحَلْنَا ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَقَضَى الْقَوْمُ حَوَائِجَهُمْ ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ فَقُلْنَا يَا نَبِىَّ اللَّهِ أَلاَ نَقْضِيهَا لِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَيَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ ».
1424 ۔ حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غزوہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) سریہ میں شرکت کے لیے ایک سفر میں شریک تھے جب رات کا آخری حصہ ہوا تو ہم نے پڑاؤ کیا (اور سوگئے) ہم بیدار نہ ہوسکے یہاں تک کہ سورج کی تپش نے ہمیں بیدار کیا ہم لوگ خوف زدہ ہوگئے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے تو انھوں نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم وہاں سے روانہ ہوجائیں پھر ہم نے کچھ سفر کیا یہاں تک کہ سورج کچھ بلند ہوگیا تو لوگوں نے قضائے حاجت کی، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو یہ حکم دیا کہ وہ اذان دیں : پھر ہم نے دو رکعت ادا کی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت انھوں نے اقامت کہی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز ادا کی ہم نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا ہم اسے کل اس کے وقت میں قضاء نہ کریں ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو سود سے منع کرے گا، اور خود اسے تم سے قبول کرے گا۔