1433 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْجُرْجَانِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِى حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ وَعَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى السَّفَرِ قُلْنَا بَلَى. قَالَ كَانَ إِذَا زَاغَتْ لَهُ الشَّمْسُ فِى مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَبَ وَإِذَا لَمْ تَزِغْ لَهُ فِى مَنْزِلِهِ سَارَ حَتَّى إِذَا حَانَتِ الْعَصْرُ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا حَانَتْ لَهُ الْمَغْرِبُ فِى مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ وَإِذَا لَمْ تَحِنْ فِى مَنْزِلِهِ رَكِبَ حَتَّى إِذَا حَانَتِ الْعِشَاءُ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا .
قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِى حُسَيْنٌ عَنْ كُرَيْبٍ وَحْدَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَجِيدِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ فَاحْتُمِلَ أَنْ يَكُونَ ابْنُ جُرَيْجٍ سَمِعَهُ أَوَّلاً مِنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ حُسَيْنٍ كَقَوْلِ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْهُ ثُمَّ لَقِىَ ابْنُ جُرَيْجٍ حُسَيْنًا فَسَمِعَهُ مِنْهُ كَقَوْلِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَحَجَّاجٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِى حُسَيْنٌ وَاحْتُمِلَ أَنْ يَكُونَ حُسَيْنٌ سَمِعَهُ مِنْ عِكْرِمَةَ وَمِنْ كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَكَانَ يُحَدِّثُ بِهِ مَرَّةً عَنْهُمَا جَمِيعًا كَرِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْهُ وَمَرَّةً عَنْ كُرَيْبٍ وَحْدَهُ كَقَوْلِ حَجَّاجٍ وَابْنِ أَبِى رَوَّادٍ وَمَرَّةً عَنْ عِكْرِمَةَ وَحْدَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَقَوْلِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ وَتَصِحُّ الأَقَاوِيلُ كُلُّهَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
1433 ۔ کریب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا : کیا میں آپ لوگوں کو سفر کے دوران نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نماز کے طریقے کے بارے میں بتاؤں ؟ ہم نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انھوں نے بتایا : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی رہائش گاہ میں موجود ہوتے تھے اور اس دوران سورج ڈھل جاتا تھا (یعنی دوپہر کا وقت ہوجاتا تھا) تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر روانہ ہونے سے پہلے ہی ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کرلیتے تھے اور جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (گھر میں) موجودگی کے وقت سورج نہیں ڈھلا ہوتا تھا (یعنی دوپہر نہیں ہوئی ہوتی تھی) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روانہ ہونا ہوتا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روانہ ہوجاتے تھے پھر جب عصر کا وقت ہوجاتا تھا تو اس وقت آپ سفر روک کر ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کیا کرتے تھے اسی طرح اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رہائش گاہ میں مغرب کا وقت ہوجاتا تو آپ مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کرلیتے تھے اور اگر مغرب کا وقت نہ ہوا ہوتا تو آپ روانہ ہوجاتے اور عشاء کی نماز کے وقت میں ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کرلیتے تھے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے حوالے سے یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔