144 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِى الرَّبِيعِ الْجُرْجَانِىُّ ح وَأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجَوَيْهِ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّنْعَانِىُّ قَالُوا أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فَأَمَرَ ابْنَ مَسْعُودٍ أَنْ يَأْتِيَهُ بِثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ فَجَاءَهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ « إِنَّهَا رِكْسٌ ائْتِنِى بِحَجَرٍ ». تَابَعَهُ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ حَدَّثَنَا جَدِّى حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ أَبِى شَيْبَةَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْتُ يَوْمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَأَمَرَنِى أَنْ آتِيَهُ بِثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ قَالَ فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ قَالَ فَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ « إِنَّهَا رِكْسٌ فَأْتِنِى بِغَيْرِهَا ». اخْتُلِفَ عَلَى أَبِى إِسْحَاقَ فِى إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ وَقَدْ بَيَّنْتُ الاِخْتِلاَفَ فِى مَوْضِعٍ آخَرَ.
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کو یہ ہدمایت کی : وہ آپ کے لیے تین پتھر لے کر آئیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) دو پتھر اور ایک مینگنی لے آئے، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مینگنی کو پھینک دیا اور فرمایا : یہ گندگی ہے، تم پتھر لے کر آؤ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، جس کے مطابق حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ کہیں جارہا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یہ ہدایت کی : میں آپ کے لیے تین پتھر لے کر آؤں۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں آپ کے پاس دو پتھر اور ایک مینگنی لے کر آیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مینگنی کو ایک طرف ڈال دیا اور ارشاد فرمایا : یہ گندگی ہے، تم اس کی بجائے دوسری چیز (پتھر ) میرے پاس لے کر آؤ۔
اس روایت میں ابواسحاق نامی راوی پر اختلاف کیا گیا ہے، (امام دار قطنی (رح) کہتے ہیں :) میں نے کسی دوسرے مقام پر اس اختلاف کی وضاحت کردی ہے۔