1440 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْعُذْرِىُّ بِبَيْرُوتَ أَخْبَرَنِى أَبِى حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَنِى نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَقْبَلَ مِنْ مَكَّةَ وَجَاءَهُ خَبَرُ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِى عُبَيْدٍ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ مِنْ أَصْحَابِهِ الصَّلاَةَ فَسَكَتَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ الصَّلاَةَ فَسَكَتَ فَقَالَ الَّذِى قَالَ لَهُ الصَّلاَةَ إِنَّهُ لَيَعْلَمُ مِنْ هَذَا عِلْمًا لاَ أَعْلَمُهُ فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ مَا غَابَ الشَّفَقُ سَاعَةً نَزَلَ فَأَقَامَ الصَّلاَةَ وَكَانَ لاَ يُنَادَى لِشَىْءٍ مِنَ الصَّلاَةِ فِى السَّفَرِ - وَقَالَ النَّيْسَابُورِىُّ بِشَىْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ فِى السَّفَرِ - وَقَالاَ جَمِيعًا فَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا جَمَعَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بَعْدَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ سَاعَةً وَكَانَ يُصَلِّى عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ أَيْنَ تَوَجَّهَتْ بِهِ السُّبْحَةَ فِى السَّفَرِ وَيُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ .
1440 ۔ نافع بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) مکہ تشریف لائے انھیں ان کی اہلیہ صفیہ بنت ابوعبید کی بیماری کی اطلاع ملی تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے سفر تیز کردیا جب سورج غروب ہوگیا تو ان کے ساتھیوں میں سے کسی صاحب نے کہا : نماز کا وقت ہوچکا ہے لیکن حضرت عبداللہ خاموش رہے ان کے جس ساتھی نے انھیں نماز کے لیے کہا تھا اس نے یہ سوچا کہ ضرور ان کے پاس اس بارے میں کوئی ایسی معلومات ہوں گی جس سے میں واقف نہیں ہوں، پھر حضرت عبداللہ بن عم (رض) چلتے رہے یہاں تک کہ جب شفق غروب ہوئی تو انھوں نے پڑاؤ کیا اور نماز کے لیے اقامت کہی وہ سفر کے دوران نماز کے لیے اذان نہیں دیا کرتے تھے۔
یہاں پر نیشاپوری راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے ، اس کے بعد کے الفاظ راویوں کے متفقہ ہیں وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ (رض) کھڑے ہوئے اور انھوں نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کی، پھر انھوں نے یہ بات بتائی جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیزی سے سفر کرنا ہوتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شفق غروب ہوجانے کے تھوڑی دیر بعد مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کیا کرتے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر کے دوران اپنی سواری کی پشت پر ہی نماز ادا کرلیا کرتے تھے خواہ سوری کا رخ کسی بھی سمت ہو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے ان لوگوں کو بتایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح کیا کرتے تھے۔