1449 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَاللَّفْظُ لِوَكِيعٍ عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ وَهُوَ فِى سَفَرٍ فَسَارَ حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ قِيلَ لَهُ الصَّلاَةَ فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَادَ يَغِيبُ الشَّفَقُ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا نَابَتْهُ حَاجَةٌ صَنَعَ هَكَذَا.
1449 ۔ نافع بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کو ان کی اہلیہ صفیہ کی بیماری کیا اطلاع ملی ، وہ اس وقت سفر کی حالت میں تھے ، انھوں نے رفتار تیز کردی جب سورج غروب ہوگیا تو ان سے نماز کے لیے کہا گیا لیکن وہ چلتے رہے یہاں تک کہ جب شفق غروب ہونے کے قریب تھی تو انھوں نے پڑاؤ کیا اور مغرب کی نماز ادا کی پھر وہ انتظار کرتے رہے ، یہاں تک کہ شفق غروب ہوگئی تو انھوں نے عشاء کی نماز ادا کی پھر انھوں نے ہمیں یہ بات بتائی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کوئی کام ہوتا تھا تو وہ اسی طرح کیا کرتے تھے ۔