1451 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ أَخْبَرَنِى الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ أَخْبَرَنِى أَبِى قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ يَقُولُ حَدَّثَنِى نَافِعٌ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَهُوَ يُرِيدُ أَرْضًا لَهُ فَنَزَلَ مَنْزِلاً فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِى عُبَيْدٍ لَمَّا بِهَا وَلاَ أَظُنُّ أَنْ تُدْرِكَهَا. وَذَلِكَ بَعْدَ الْعَصْرِ - قَالَ - فَخَرَجَ مُسْرِعًا وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ عَهْدِى بِصَاحِبِى وَهُوَ مُحَافِظٌ عَلَى الصَّلاَةِ فَقُلْتُ الصَّلاَةَ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَىَّ وَمَضَى كَمَا هُوَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ الصَّلاَةَ وَقَدْ تَوَارَى الشَّفَقُ فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا عَجَّلَ بِهِ أَمْرٌ صَنَعَ هَكَذَا.
1451 ۔ نافع بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے ساتھ روانہ ہوا وہ اپنی زمین کی طرف جارہے تھے انھوں نے راستے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے بتایا (ان کی اہلیہ) صفیہ بنت ابوعبید کی حالت نازک ہے اور میرا یہ خیال ہے آپ (ان کے انتقال سے پہلے) ان تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ راوی کہتے ہیں) یہ عصر کے بعد کی بات ہے راوی کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) تیزی سے وہاں سے نکلے ان کے ساتھ قریش کا ایک شخص بھی تھا، ہم لوگ سفر کرتے ہوئے جارہے تھے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا میرا حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے ساتھ گہراتعلق تھا وہ نماز بڑی باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتے تھے میں نے عرض کی : نماز کا وقت ہوگیا ہے انھوں نے میری طرف توجہ نہیں کی اور چلتے رہے جیسے پہلے جارہے تھے یہاں تک کہ جب شفق کا آخری وقت ہوگیا تو انھوں نے پڑاؤ کیا اور مغرب کی نماز ادا کی پھر انھوں نے نماز کے لیے اقامت کہی تو اسی دوران شفق غروب ہوگئی تو انھوں نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر ہمیں یہ بتایا جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی معاملے میں جلدی کرنی ہوتی تھی تو آپ اسی طرح کیا کرتے تھے۔